January 22, 2018.Special-Features

ایک بدو نے نبی پاکؐ سے پوچھا حشر میں حساب کون لے گا؟ آپؐ نے فرمایا اللہ، بدو خوشی سے جھوم اٹھا اور بولا، تب تو ہم بخشے گئے، آپؐ نے بدو سے پوچھا وہ کیسے؟ تو بدو بولا۔۔۔۔

حضور نبی اکرمؐ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حشر میں حساب کون لے گا؟ جس کے جواب میں حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ۔ بدو نے جب جواب سنا تو خوشی سے جھوم اٹھا اور چلتے چلتے کہنے لگا، بخدا تب تو ہم نجات پا گئے، نبی کریمؐ نے پوچھا وہ کیسے؟
جواب میں بدو نے عرض کیا کہ اللہ کریم ہے اور کریم جب قابو پا لیتا ہے تو معاف کر دیتا ہے، بدو چلاگیا لیکن جب تک نظر آتا رہا، نبی کریمؐ اُس کا جملہ دہرا کر فرماتے رہے، قد و جد ربی، قد و جد ربی، اس نے رب کو پہچان لیا، اُس نے رب کو پہچان لیا۔

 

Like Our Facebook Page

Latest News