January 22, 2018.Special-Features

’’تیل اوراسلحہ کے بعد دنیا کو کنٹرول کرنے والا تیسرابڑا کاروبار ڈرگز‘‘ ملا عمر کے ایک فیصلے نے کیسےامریکہ کی دنیا پر حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا حامد کرزئی کا بھائی ولی کرزئی کیسے دنیا کا سب سے امیرترین شخص بن بیٹھا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں سب سے بڑا کاروبار تیل کا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر اسلحے کی فروخت اور تیسرے نمبر پر ڈرگز کا کاروبار آتا ہے۔ یہ تین بڑے کاروبار دنیا کی معیشت کو نہ صرف اس وقت کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ ان کاروبار کو کنٹرول کرنے والی طاقت ہی دراصل دنیا کی مالک و مختار سمجھی جاتی ہے اور وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ دنیا کی واحدسپر پاور ہے ۔ امریکہ کی کل آمدن کا 50فیصد اسلحہ کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے اور یہی بات ہے کہ دفاعی ماہرین جنگوں کو امریکہ

ے مفاد میں گردانتے ہیں۔ بہت لوگ جانتے ہونگے کہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا کاروبار ڈرگز کا ہے ۔ امریکن سی آئی اے دنیا کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ہے ۔ اس ایجنسی کے آپریشنز دنیا بھر میں جاری رہتےہیں جن پر بے پناہ اخراجات آتے ہیں ۔ یہ اخرجات اس بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں جو اس کے لیے منظور کیا جاتا ہے ۔اپنے بجٹ سے زائد اخراجات کو پورا کرنے کیلئے سی آئی اے اپنے 90فیصد اخراجات ڈرگز کے کاروبار سے پورا کرتی ہے۔ بجٹ میں منظور ہونے والے پیسے کا حساب رکھاجاتا ہے جبکہ ڈرگز کے کاروبار سے حاصل ہونیوالی رقوم بے دریغ قتل و غارت اور مختلف خوفناک منصوبوں پر لگائی جاتی ہے۔ دنیا میں دو ایسے خطے ہیں جہاں سب سے زیادہ ڈرگز پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں چین کے قریب میانمار اور تھائی لینڈ کا علاقہ ہے جسے ڈرگز کے کاروبار سے تعلق رکھنے والے گولڈن ٹرائی اینگل کا نام دیتے ہیں جبکہ دوسرا خطہ جو دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرتا ہے اور جسے آج کل گولڈن کریسنٹ (سنہری ہلال)کہا جاتاہے افغانستان کا علاقہ ہے جہاں دنیا کی تقریباََ 90فیصد سے زیادہ افیون اور ہیروئن پیدا کی جاتی ہے۔ افغانستان میں افیون اور ہیروئن جن علاقوں میں بن رہی ہے ان پر امریکنز کا کنٹرول کسی سےڈھکا چھپا نہیں۔ان علاقوں میں امریکی آرمی کے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ہم یہاں افیون کی کاشت کو فروغ اور اسے محفوظ بنانے آئے ہیں۔ سن 2000میں امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ ملا محمد عمر مجاہد نے افیون کی کاشت کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئےاس کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد پہلی بار دنیا میں افیون اور ہیروئن کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی،افغانستان پر کنٹرول کے بعد امریکی سی آئی اے نے ایک بار پھر یہاں افیون کی کاشت کو فروغ دیا اور یہی نہیں بلکہ دیوالیہ ہوتے امریکی بینکوں کو بھی اسی رقم سے دوبارہ سہارا دیا گیا۔ کہاں جاتا ہے کہ سی آئی اے نے کچھ لوگوں کو اس کام کےلیے اپنا فرنٹ مین بنا رکھا ہے ۔ حامد کرزئی کے بھائی ولی کرزئی ان میں سے ایک ہیں ۔ جن کے بارے میں اندازہ ہے
کہ اگر غیر قانونی دولت کی کوئی رینکنگ ہو توشائد وہ اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص بن چکے ہیں ۔امریکہ کے افغانستان پر حملے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہیروئین کے اس کاروبار کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا تھا جس پر سی آئی اے چلتی ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس ہیروئین کی سب سے زیادہ کھپت یورپ اور امریکہ میں ہی ہوتی ہے ۔ کیونکہ سی آئی اے کو کنٹرول کرنے والے امریکن عیسائی نہیں بلکہ وہ یہودی ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے ۔

Like Our Facebook Page

Latest News