January 21, 2018.Special-Features

وہ گھر آتے اوراللہ اکبرکہتے،جواب میں اہلیہ بھی یہ نعرہ لگاتی لیکن ایک روز وہ گھر میں داخل ہوئے اور جونہی اللہ اکبر پکارا تو ۔۔۔

حضرت عثمان بن عطاؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ جب بھی گھرمیں داخل ہوتے تو سلام کرتے اور گھر کے اندر پہنچ کر اللہ اکبر کہتے اور ان کی بیوی بھی اللہ اکبر کہتی تھی اس کے بعد وہ بیٹھتے اپنے جوتے اور چادر اتارتے اور پھر ان کی بیوی کھانا لاتی اور وہ کھالیتے۔حضرت ابو مسلم خولانیؒ وہ جلیل القدر بزرگ تھے جن کے لئے آگ گلزار بن جاتی تھی۔یمن میں پیدا ہوئے ۔تقوی اور توکل میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے،

ایک بار جب حضرت ابو مسلم خولانیؒ اپنے گھر پہنچے، سلام کیا تو کوئی جوا ب نہ ملا۔گھرمیں داخل ہوکر اللہ اکبر کہا، بیوی نے اس بار بھی جواب نہ دیا۔
دیکھا کہ بیوی نے آج گھر میں چراغ تک نہیں جلایا تھا۔ بس وہ ایک جگہ بیٹھی زمین کرید رہی تھی۔ 
حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے پوچھا ’’تجھے کیا ہوا‘‘ وہ بول پڑی’’سارے لوگ کیا کیاکرتے ہیں اور کہاں کہاں پہنچ گئے ہیں۔ وہ حکومت سے اتنا مال و دولت اور اتنی جائیداد اور جاگیر لے چکے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ بھی شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں اور آپ تو بڑے مشہور بزرگ ہیں۔ آپ تو زیادہ لے سکتے ہیں۔ آپ بھی امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے پاس جاتے تو ہمیں بھی وہ بہت کچھ دیتے۔‘‘
حضرت ابو مسلم خولانیؒ سمجھ گئے کہ یہ نیک بیوی ہے، سادہ مزاج ہے، خود نہیں بول رہی بلکہ کسی نے آج اس کو ورغلادیا ہے اور اس کے کان بھر دئیے ہیں اور پھر دعا مانگی۔
’’یاالہٰی! جس نے بھی میری بیوی کو ورغلایا ہے اسے تو اندھا کردے‘‘
حضرت ابو مسلم خولانیؒ کے گھر ایک عورت آئی تھی جس نے ان کی بیوی کو حضرت امیر معاویہؓ کی سخاوت کے قصے اور حضرت ابو مسلمؒ کی شان بیان کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’تم بھی بہت کچھ حاصل کرسکتی ہو، بس تم اپنے خاوند سے مطالبہ کردو کہ وہ بھی حضرت معاویہؓ سے اپنے لئے کچھ لے لیں۔‘‘
یہ عورت رات کو اپنے گھر میں کام کررہی تھی کہ اچانک آنکھ میں معمولی سی تکلیف ہوئی۔ اس نے آنکھیں مسلیں اور پھر گھر والوں سے کہنے لگی’’ چراغ کیوں بجھادیا؟ اسے روشن کرو‘‘ سارے گھر والے حیران ہوگئے اور کہنے لگے۔ ’’چراغ تو بدستور چل رہا ہے۔‘‘ 
پھر اسے یقین آگیا کہ اس کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے اور وہ مکمل اندھی ہوچکی ہے۔ اگلے دن اسے پتہ چل گیا کہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے ہی اندھا ہونے کی بددعا دی تھی۔ پھر تو وہ عورت آکر حضرت ابو مسلم خولانیؒ کے پاؤں پڑگئی۔ بڑی روئی، سٹپٹائی، منت سماجت کرنے لگی اور معافیاں مانگنے لگی۔ 
اس پر حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے اسے معا ف کردیا اور اس کے لئے دعا بھی فرمادی۔ وہ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھتی واپس اپنے گھر لوٹ آئی۔

Like Our Facebook Page

Latest News