January 25, 2018=National News

زینب کا قاتل عمران کروڑ پتی نکلا، سینکڑوں بینک اکائونٹس کا انکشاف قصور میں بچوں کے جنسی سکینڈل سے تانے بانے جا ملے، رانا ثناسمیت متعدد ایم این ایز اور ایم پی ایز نے معاملہ کیوں دبادیا، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کا قاتل بین الاقوامی ریکٹ کا کارندہ، 162بینک اکائونٹس اس کے نام پر مختلف بینکوں میں کھولے گئے، 2015میں قصور میں بچوں کے جنسی سکینڈل سے تانے بانے ملتے ہیں، بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، رانا ثنا سمیت متعدد ایم این ایز اور ایم پی ایزنے سابقہ معاملے کو دبادیا تھا،ڈاکٹر شاہد مسعود کے بعد معروف صحافی اسد کھرل نے بھی انکشافات کر ڈالے،

تمام تفصیلات رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس کے بعدسینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب کے قاتل عمران کو بچوںکی متشدد پورن گرافی ویڈیوز بنا کر بیچنے والے بین الاقومی ریکٹ کا کارندہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ قاتل عمران اس بین الاقوامی ریکٹ کا حصہ اور اس کے نام پر بیرون ملک سے بھاری رقوم آتی ہیں جبکہ اس کے ملک بھر میں سینکڑوں بینک اکائونٹس موجود ہیں۔ پاکستان میں اس بین الاقوامی ریکٹ کی سرپرستی ایک وفاقی وزیر کر رہا ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود کے اس انکشاف کے بعد چیف جسٹس نے آج زینب قتل ازخود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو طلب کر لیا تھا جہاں انہوں نے ایک کاغذ پر اس وفاقی وزیر کا نام لکھ کر چیف جسٹس کے حوالے کیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے بعد ایک اور معروف صحافی اسد کھرل بھی منظر عام پر آگئے ہیں اور انہوں نے زینب کے قاتل عمران کے 162بینک اکائونٹس کا انکشاف کیا ہے۔ اسد کھرل کا کہنا تھا کہ زینب کا قاتل بین الاقوامی ریکٹ کا کارندہ ہے ۔ 2015میں قصور میں بچوں کے منظر عام پر آنے والے جنسی سکینڈل سے اس کے تانے بانے ملتے ہیں جبکہ اس سکینڈل میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ سمیت متعدد ایم این ایز اور ایم پی ایز نے گذشتہ قصور واقعات کو دبا دیا تھا۔اسد کھرل کا کہنا تھا کہ حیران کُن بات یہ ہے کہ ملزم عمران نہ تو کوئی کاروبار کرتا ہے ، نہ ہی اس کا کوئی ایسا روزگار ہےلیکن پھر بھی اس کے ایک ہی شناختی کارڈ ، ایک ہی نام اور ایک ہی پتے پر 162اکاؤنٹس کھولے گئے۔ انہوں نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پیش کش کی کہ ملزم کے162اکاؤنٹس کی تفصیلات کسی بھی فورم پر رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔

Like Our Facebook Page

Latest News