January 25, 2018=National News

دال میں کچھ تو کالا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود کے سنسنی خیز انکشاف کے بعد بڑی خبر آگئی، زینب کا قاتل عمران بینک اکائونٹ کے ذریعے لوگوں کو ایک لاکھ روپے کا قرضہ دیا کرتا تھا، تحقیقاتی اداروں کی دوڑیں لگ گئیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کےقاتل عمران کی گرفتاری کے بعد سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے ۔گزشتہ رات پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کرتےہوئے بتایا ہے کہ زینب قتل کیس میں گرفتار کیا گیا ملزم عمران نفسیاتی مریض نہیں بلکہ انٹرنیشنل مافیا کا ایک فعال ممبر ہے ، مزید یہ کہ اس کے مختلف 37 بنک اکاؤنٹس ہیں جن میں اربوں روپے موجود ہیں

اور اس کی سربراہی وفاقی حکومت کا ایک وزیر کر رہا ہے ۔ ان کے اس بیان کے بعد آج چیف جسٹس آف پاکستان نے زینب قتل ازخودنوٹس کیس میںایک اور نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران طلب کیا جہاں انہوں نے ایک کاغذ پر قصور میں بچوں کی فحش فلموں کے کاروبار میں ملوث بین الاقوامی ریکٹ کے پاکستان میں نگرانی کرنے والے شخص کا نام لکھ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشاف کے بعد ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور اب یہ انکشاف ہواہے کہ زینب کا قاتل عمران کا فی الحال پاکستان کے کسی بینک میں کوئی اکائونٹ موجود نہیں نہ ہی اس نے کسی بینک سے کوئی قرض حاصل کیا ہے تاہم یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم ایک اکاؤنٹ سے غریبوں کو ایک لاکھ روپے کے قرض فراہم کرتا تھا، لیکن اب ملزم کا قرض فراہم کرنے والا بنک اکاؤنٹ بھی بند ہے۔واضح رہے کہ سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ طلبی کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم وفاقی وزیر اپنے بیرون ملک مقیم دوست کے ساتھ مل کر بچوں کی فحش فلمیں بنانے کا دھندا کر رہا ہے ۔ اہم شخصیت کے پارٹنر دوست نے ہی ملزم عمران کے بارے میں مجھے تفصیلات فراہم کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک شخصیت کا نام لکھ کر سپریم کورٹ کو دے دیا ہے ، وہ ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت ہے جو اپنے بیرون ملک مقیم دوست کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کم سن بچوں کی فحش فلموں کا مکروہ دھندا کرنے والی شخص وفاق اور پنجاب حکومت کی انتہائی اہم شخصیت ہے۔انہوں نے مزید انکشاف کرتےہوئے کہا کہ یہ تفصیلات کےمجھے اس اہم شخصیت کے دوست سے ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو زینب کے قاتل کی
زندگی سے متعلق خطرات سے آگاہ کر دیا ہے اور اپیل کی ہے کہ قاتل کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر اس کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے جس پر میری درخواست پرسپریم کورٹ نے قاتل عمران کی سکیورٹی بڑھاتے ہوئے آئی جی پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات کو قاتل عمران کی سکیورٹی کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دیا

Like Our Facebook Page

Latest News