January 25, 2018=National News

پاکستان میں بچیوں کی متشدد پورنو گرافی ویڈیوز بنانے والے ریکٹ کی موجودگی، زینب کے قاتل عمران اور وفاقی وزیر بارے ڈاکٹر شاہد مسعود کےانکشافات پر چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، فوری عدالت لگانے کا حکم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں بچیوں کے ریپ اور ان پر تشدد کی ویڈیوز بنانے والے بین الاقوامی ریکٹ کی موجودگی ، زینب کا قاتل عمران بین الاقوامی ریکٹ کا حصہ، ریکٹ کا پشت بان ایک وفاقی وزیر، قاتل عمران کے 37بینک اکائونٹس اور بیرون ملک سے بھاری رقوم کی ٹرانزکشن، ڈاکٹر شاہد مسعود کے تہلکہ خیز انکشافات پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لے لیا،

ڈاکٹر شاہد مسعود عدالت طلب، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نوٹس کی سماعت آج ہی کرے گا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے زینب قتل کیس میںڈاکٹر شاہد مسعود کے تہلکہ خیز انکشافات پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج ہی طلب کر لیا ہے۔ نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کا بنچ کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات نجی ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سات سالہ زینب کا قاتل عمران نہ ہی مستری ہے اور نہ ہی وہ کوئی ذہنی مریض ہے، تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت جھوٹ بول رہی ہے کہ عمران مستری ہے ، انہوں نے کہا کہ میں بیرون ممالک تھا تو وہاں بھی یہ کیس ڈسکس ہوتا رہا اور میں شہباز شریف کے موقف کا انتظار کر رہا تھا،میں چیف جسٹس آف پاکستان کے نوٹس میں یہ بات لاناچاہتاہوں کہ یہ آدمی مستری بھی نہیں ہے اور یہ آدمی ذہنی مریض بھی نہیں ہے یہ ایک بین الاقوامی مافیا کا انتہائی فعال رکن ہے جس کو پاکستان کی اعلیٰ اور مضبوط شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس آدمی کے کم از کم 37 بینک اکاؤنٹس ہیں، جس میں اکثریت فارن اکاؤنٹس کی ہے، ان اکاؤنٹس میں بیرون ممالک سے ڈالرز، یورز اور پاؤنڈز کی ٹرانزیکشن کی جاتی ہے اور یہ کروڑوں اربوں کا کھیل ہے، یہ جن بین الاقوامی تنظیموں کے لیے کام کر رہا ہے اس کی مکمل تحقیقات کریں،انہوں نے کہا کہ میں جو بات کررہا ہوں وہ انتہائی ذمہ داری سے کر رہا ہوں اس کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں، نہ تو یہ پاگل ہے اور نہ یہ بے وقوف آدمی ہے اس کو اہم سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل ہے اور یہ شخص چائلڈ پورنو گرافی کے لیے کام کرتا ہے، بدقسمتی کے ساتھ یورپ ، ایسٹرن یورپ اور باہر کی دنیا میں کچھ پاگل یا ذہنی مریض قسم کی شخصیات ہیں جب وہ نشے میں ہوتی ہیں یا اس قسم کی کیفیت میں ہوتی ہیں تو وہ انٹرنیٹ پر لائیو مناظر دیکھتے ہیں جس میں بچوں پر تشدد ہوتے ہیں،

Like Our Facebook Page

Latest News