January 25, 2018=National News

آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ ہیں، جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ،گوادر میں پینے کا پانی نہیں ،سی پیک کاپیسہ کہاں لگایا جا رہا ہے، خورشید شاہ کے انٹرویو کے دوران انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ، جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ہے ، پنجاب میں بجلی کی چوری زیادہ ہے اور لائن لاسز کم ہیں ،سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین چل رہی ہے ، گوادر میں پینے کا پانی نہیں ہے، اگر لڑائی سے سسٹم ڈی ریل ہوا تو قصور(ن) لیگ کا ہوگا، پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر اقتدار میں نہیں آسکتے۔بدھ کو نجی

ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سیاست سے ملک خوشحالی کی طرف گیا ، بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں اقتدار کی سیاست ہوتی رہی ، پارلیمنٹ میں ہم لوگوں سے کچھ خامیاں ہوئی ہیں ، ذوالفقار علی بھتو نے پارلیمنٹ کیلئے جدوجہد کی ۔انہوں نے کہا کہ لوگ پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر اقتدار میں نہیں آسکتے ، کیا آپ کے پی کے کی اسمبلی پر بھی لعنت بھیج رہ ہیں ، پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ، میرا خیال ہے کہ تحریک انصاف استعفے فروری کی پہلی تاریخ کو دے گی ، فروری میں استعفے دینے کا مقصد ختم ہوجائے گا ۔ پونے پانچ سال بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم استعفے دے رہے ہیں ، اب کیا ہوگا ، جب چڑیا چگ گئی کھیت ، یہ لوگ سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں ۔خورشید شاہ نے کہا کہ آرمی چیف نے واضح کیا کہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ، میں بشریٰ مانیکا کا بہت احترام کرتا ہوں ، الیکشن کمیشن کا امتحان بڑا اور وقت کم ہے ، چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی ، ہم نے اگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کی تو چیئرمین بھی ہمارا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ہے ، ہماری دعا ہے کہ خان صاحب شادی کریں لیکن پھر سنبھال بھی لیں ، بجلی کی سب سے زیادہ چوری پنجاب میں ہورہی ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بجلی چوری سے زیادہ لائن لاسز ہیں جبکہ پنجاب میں بجلی کی چوری زیادہ ہے اور لائن لاسز کم ہیں ،سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین چل رہی ہے ، گوادر میں پینے کا پانی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست کا مطلب ہے سسٹم کو بچاؤ او سسٹم کیلئے خطرہ کو نکال باہر کرو، پیپلزپارٹی کے دور میں بہت سازشیں ہوئیں ، ہم نے بھٹو کی دی ہوئی سیاسی بصیرت کا استعمال کیا ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے کبھی گالی نہیں دی نہ ہی کبھی کسی کو برا بھلا کہا ہے ، ادروں کو صبر سے چلنا چاہیے اور سیاست میں بنہیں آنا چاہیے ، ہم نے مشرف کو بندوق سے نہیں سیاست سے نکالا الیکشن ہوا تو پیپلزپارٹی اچھی سیٹیں لے جائے گی ۔ نیب سے کوئی سزا ہوئی تو (ن) لیگ کا بڑا امتحان ہوگا ، اگر لڑائی سے سسٹم ڈی ریل ہوا تو قصور(ن) لیگ کا ہوگا ۔انہوں نے کاہ کہ پی ٹی آئی کو لاہور کے جلسے میں اپنے بندے لانے چاہیے تھے ، پیپلزپارٹی کیساتھ سیف الرحمان نے کہا کچھ نہیں کیا ، شہباز شریف کی اداروں کی تعریدیں ختم نہیں ہوتیں ، جب اپنے اوپر بات آتی ہے تو یہ چیخنا شروع کردیتے ہیں ۔

Like Our Facebook Page

Latest News