January 24, 2018=National News

میں کیا کہنے والا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے میرا مائیک ہی بند کر دیا؟ زیادتی کا نشانہ بننے والی معصوم زینب کے والد نے اصل بات بتا دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سات سالہ معصوم بچی زینب کے والد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے کا خاص موقع نہیں دیا گیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں نے تو ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنا تھا مگر اس سے قبل کے میں مطالبہ کرتا سب اٹھ کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے تو ابھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ٹیم کا ابھی شکریہ ہی ادا کیا تھا اور اس کے بعد میں

ے ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنا تھا مگر مجھے مزید بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف سے اس سلسلے میں پہلے بھی بات کی تھی مگر پریس کانفرنس میں مجھے بات ہی نہیں کرنے دی گئی، وہ اٹھ گئے اور مجھے بھی ساتھ ہی اٹھا دیا گیا، ننھی زینب کے والد نے کہاکہ میرا یہ مطالبہ ہے کہ ملزم کو سرعام پھانسی دی جائے اور متعلقہ اداروں سے بھی کہتا ہوں کہ جو آئینی ترمیم اس کے لیے درکار ہیں، انہیں فوری طور پر کرکے اس ملزم کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ لوگوں کے لیے یہ عبرت کانشان بن جائے۔ سات سالہ معصوم بچی زینب کے والد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے کا خاص موقع نہیں دیا گیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں نے تو ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرنا تھا مگر اس سے قبل کے میں مطالبہ کرتا سب اٹھ کھڑے ہوئے۔

Like Our Facebook Page

Latest News