January 24, 2018=National News

’شہباز شریف ایسے بھی نکلیں گے کسی نے سوچا تک نہ تھا ‘‘ زینب کا قاتل پولیس نےکتنے دن پہلے پکڑ لیا تھا، شہباز شریف نےاسے چھپا کر رکھنے کا کیوں حکم دے رکھا تھا، تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کا قاتل پولیس نے پہلے ہی پکڑ لیا تھا، شہباز شریف خبر میڈیا پر نہیں لانا چاہتے تھے بلکہ خبر کو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے سامنے لانے کے متمنی تھی، خبر میڈیا پر لیک ہونے کی وجہ سے قاتل کی گرفتاری کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوئے، سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا دعویٰ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےسینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ زینب کا قاتل پولیس نے پہلے ہی پکڑ لیا تھا

جس کی گرفتاری کو ظاہر کرنے سے شہباز شریف نے پولیس کو روکے رکھا تھا۔ شہباز شریف زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہئے تھے مگر خبر میڈیا پر لیک ہونے کی وجہ سے قاتل کی گرفتاری کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کسی سیاسی موقع پر ہیرو بننے کیلئے ہو سکتا ہے ایسا کر نا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ زینب قتل سیاسی ایشو نہیں تھا مگر زینب قتل کو سیاسی ایشو بنا دیا گیا جو کہ نہایت افسوسناک بات ہے۔ زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری کے بعد اس سے تفتیش کے دوران ہولناک انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کےمطابق قاتل عمران نے اب تک 5بچیوں سے زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ عمران بچیوں کو بہلا پھسلا اور ورغلا کر زیر تعمیر عمارتوں میں لے جاتا ہے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی گردن توڑ کر لاش اسی دن ٹھکانے لگا دیتا تھا۔ زینب کے اغوا سے قبل ملزم نے ایک بچی کونور فاطمہ کو اسی طرح زیادتی کے بعد قتل کرنے کی کوشش کی اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا تاہم رب العزت کو نور فاطمہ کی زندگی ابھی منظور تھی اور وہ بچ گئی مگر اپنے اوپر بیتی دلخراش واردات کے باعث نور فاطمہ اس وقت لاہور کے ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابقوہ ذہنی طور پر ابھی تک صدمے سے نہیں نکل سکی اور اس کی دماغی صحت بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ نور فاطمہ کے واقعہ کے بعد عمران چوکنا ہو گیا تھا ۔ اس نے زینب کو زیادتی کے بعد اس کی یقینی موت کیلئے اس کی گردن توڑنے کے علاوہ اس کے بازوں اور ٹانگوں کی رگوں کو بھی کاٹ ڈالا تھا جبکہ گلے پر بھی تیز دھار آلے سے وار کر کے اس کی موت کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی۔واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق قصور شہر میں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی 12وارداتیں ہو چکی ہیں جبکہ قاتل عمران نے صرف 5وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ باقی 7وارداتوں کا سراغ لگانا ابھی باقی ہے جبکہ اس حوالے سے نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی بات کی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کچھ سامنے آسکا ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہو کہ پولیس ان باقی 7وارداتوں کا سراغ لگانے کیلئے بھی کچھ اقدامات کر رہی ہے۔

Like Our Facebook Page

Latest News