December 24, 2017-صحت

اگر خواتین اپنے جسم کی یہ چیز ٹھیک رکھنا چاہتی ہیں تو 2سے زیادہ بچے نہ پیدا کریں“ سائنسدانوں نے شادی شدہ خواتین کو وارننگ دے دی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں ایک روایتی تاثر پایا جاتا ہے کہ خاتون جتنے زیادہ بچے پیدا کرے اتنا ہی اس کا حسن ماند پڑتا جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے بھی اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے اور بتا دیا ہے کہ خاتون کو اپنا حسن برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کتنے بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ 
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی بیتھ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”جو خواتین زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں ادھیڑ عمری میں جا کر ان کی جلد سیاہی مائل ہوجاتی ہے اور ڈھلکنے لگتی ہے۔“ ان کا کہناتھا کہ ”جو خواتین چاہتی ہیں کہ زیادہ عمر میں بھی ان کی شکل و صورت پرکشش رہے انہیں چاہئیے کہ زیادہ سے زیادہ 2بچے پیدا کریں۔“
متعدد درمیانی عمر کی خواتین پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”ہر بچے کی پیدائش خاتون میں تکسیدی دباﺅ (Oxidative Stress)کے اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ خواتین کے جسم میں کیمیائی عدم توازن کی ایک قسم ہے جو انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ باربار حاملہ ہونا، بچوں کو دودھ پلانا اور ان کی نگہداشت کرنا اس کے بنیادی اسباب ہیں۔“
تحقیقاتی ٹیم کے رکن ڈاکٹر انتھونی لٹل کا کہنا تھا کہ ”حمل، بچے کو دودھ پلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں بہت زیادہ توانائی صرف ہوتی ہے۔ دوران حمل بچہ ماں کے جسم سے جو خوراک حاصل کرتا ہے وہ بھی خواتین کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔یہ تمام عوامل خواتین کے ڈی این اے پر اثرانداز ہو کر ان کے جلد بڑھاپے پر منتج ہوتے ہیں۔ ہماری تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین کے زیادہ بیمار ہونے اوران کی عمر کم ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔“

Like Our Facebook Page

Latest News

1