November 5, 2018-Intersting and Weird

این جی اوز پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا چاہتی ہیں

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تشویشناک انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں غیر ملکی این جی ای اوز ،ہم جنس پرستی کو فروغ دینا چاہتی ہیں اور وہ اس حوالے سے سرگرم عمل ہیں۔تفصیلات کے مطابق انسانی تاریخ میں مرد و عورت کا تعلق روز اول سے ہی ایک دلچسپ موضوع رہا ہے۔مختلف معاشروں میں اس تعلق کو مختلف انداز میں دیکھا جاتا رہا ہے ۔ عورت اور مرد کا تعلق کب، کیسے ،کیوں اور کس نوعیت کا ہونا چاہیے یہ سوال ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں اہم رہے ہیں ۔تاہم مہذب معاشروں میں ہمیشہ سے ہی ان تعلقات کو تہذیب اور آداب کے دائرے میں رکھنے کے لیے شادی جیسی رسم کو رواج دیا گیا تا کہ انسان کی بنیادی فطری خواہش بھی پوری ہو سکے اور معاشرہ بھی انارکی کا شکار بننے سے بچا رہے تاہم ہر دور میں ایسا اقلیتی طبقہ بھی موجود رہا ہے جو جنسی تسکین کے لیے تعلقات کو کسی پیمانے پر جانچنے کا قائل نہیں ہے۔

اس طبقے کے نزدیک جنسی تعلق ایک ایسا فطری عمل ہے جو کسی بھی ضابطے کا پابند نہیں ہونا چاہیے بس خواہش کی تکمیل اہم ہے۔جیسے جیسے انسان نام نہاد ترقی کے زینے پر قدم رکھتا جا رہا ہے وہ اس تعلق کے حوالے سے مادر پدر آزاد ہونا چاہ رہا ہے۔یورپ میں مرد کا مرد اور عورت کا عورت کے ساتھ آپس میں تعلقات قائم کر لینا کوئی بڑی اور غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی ۔ کچھ ممالک میں میں تو ایسے جوڑوں کے لیے باقاعدہ قانونی تحفظ موجود ہے۔یہی جنسی بے رواہ روی اب پاکستان میں بھی پھیلائی جانے کی مذموم کوشش کی جا رہی اور اس کے پس پردہ غیرملکی این جی اوز موجود ہیں جو ہم جنس پرستی کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔اس حوالے سے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے سینیٹ فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ غیر ملکی این جی اوز حساس علاقوں میں جا کر میپنگ کرتی اور حساس اداروں کی معلومات اکٹھی کرتی ہیں، وزارت داخلہ کے لوگ پتا نہیں یہ بات کیوں نہیں بتاتے۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کہا آئی این جی اوز نوجوانوں کو ہم جنس پرستی پر ابھارتی ہیں، وہ گے میرج پر سیمینار بھی کرانا چاہتی ہیں۔اس خبر کے سامنے آنے کے معاشرے کے ذمہ داران کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے

Like Our Facebook Page

Latest News