January 17, 2018.ڈیلی بائیٹس

نوجوان جوڑے نے 9 دن تک پیدل چلنے کے بعد دنیا کے اس مقام پر جا کر شادی کرلی جہاں آج سے پہلے یہ کام کسی نے نہ کیا، تصاویر دیکھ کر آپ بھی دیکھتے ہی رہ جائیں گے

کٹھمنڈو (نیوز ڈیسک) ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی شادی کے موقع کو یادگار بنادے لیکن اس مقصد کے لئے جیسا انوکھا کام اس آسٹریلوی جوڑے نے کیا یقینا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔ میل آن لائن کے مطابق 32 سالہ ہیڈی ٹرنن اور 31 سالہ ٹام رین اپنی شادی کی تقریب کے لئے 9 دن تک برفیلی ہواﺅں کا سامنا کرتے اور نوکیلے پتھروں کو عبور کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماﺅنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر پہنچے اور وہاں پہنچ کر شادی کی۔ 

ماﺅنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ پر 5380 میٹر کی بلندی پر اس جوڑے نے عروسی لباس میں اپنی خوبصورت تصاویر بنائیں جن کے پس منظر میں دنیا کی بلند ترین چوٹی نظر آرہی ہے۔ ہیڈی نے بیس کیمپ تک پہنچنے کے اپنے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ”ہم یہ سفر آزادانہ طور پر کرنا چاہتے تھے لہٰذا ہم نے اپنے ساتھ نہ کسی ٹریکنگ گروپ کو لیا اور نہ ہی کسی گائیڈ یا پورٹر کو ۔ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک پہنچنے کے لئے ہمیں 9 دن لگے ۔ یہ بہت مشکل سفر تھا لیکن ہم جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ ہم چلتے چلتے بے حد تھک جاتے تھے اور شدید سردی کے باعث پورا جسم منجمد ہونے لگتا تھا۔ راستے میں کئی بار ہمت ٹوٹتی محسوس ہوئی لیکن جب ہم نے ایورسٹ کے بیس کیمپ پر پہنچ کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کیا تو ساری مصیبتیں بھول گئے۔ تب ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔“

Like Our Facebook Page

Latest News