July 9, 2018,.ڈیلی بائیٹس

اب جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے ہر لڑکا لڑکی کو یہ کام کرنا ہوگا‘‘ ایسے قانون کی تیاری کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) میاں بیوی جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں تو وہ ایک طرح سے ان کا خود کو ایک دوسرے کو سونپنے کا اقرار نامہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد انہیں قربت کے لمحات میں ایک دوسرے کی زبانی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم اب آسٹریلیا میں اس حوالے سے ایک ایسا قانون لایا جا رہا ہے کہ سن کر آپ کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق آسٹریلوی حکومت ایک قانون منظور کرنے جا رہی ہے جس کے بعد مردوخواتین کے لیے جنسی تعلق استوار کرنے سے پہلے ایک دوسرے کی ’زبانی ‘ اجازت لینا لازمی ہو گی، بصورت دیگر ان کا جنسی عمل جنسی زیادتی تصور کیا جائے گا اور اس پر سزا دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق نیوساؤتھ ویلز حکومت کی وزارت برائے انسداد گھریلو و جنسی تشدد پروگوارڈ کا کہنا ہے کہ ’’نئے قانون کے اطلاق کے بعد میاں بیوی یا کوئی بھی مردعورت باہم جنسی تعلق استوار کرنا چاہتے ہیں تو ان دونوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ وہ اس عمل کے لیے رضامند ہیں اور دوسرے پر لازم ہو گا کہ وہ بول کر ’ہاں‘ میں جواب دے۔ اس نئے قانون کا مقصد جنسی ہراسگی اور جنسی حملوں کی روک تھام کرنا ہے۔ بالخصوص دفاتر اور کام کی دیگر جگہوں پر اور یونیورسٹیوں میں پیش آنے والے جنسی حملوں کے واقعات کو روکنا ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح ہوشربا ہو چکی ہے۔ صرف 2017ء میں وہاں 13ہزار309خواتین نے پولیس کو جنسی زیادتی کی رپورٹ درج کرائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بیشتر خواتین جنسی زیادتی کی رپورٹ درج ہی نہیں کراتیں۔

Like Our Facebook Page

Latest News