July 8, 2018,.ڈیلی بائیٹس

میں 30 سال سے سعودی عرب میں نوکری کررہا تھا، اب جارہا ہوں تو کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔‘ سعودی عرب چھوڑتے ہوئے پاکستانی شہری نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر آنکھ نم ہوگئی

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں بدلتے ہوئے معاشی حقائق نے بہت سے غیر ملکیوں کو اپنے ممالک واپس لوٹنے پر مجبور کر دیاہے۔ یہ لوگ سعودی عرب کو چھوڑ تو رہے ہیں لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ۔ ستر سالہ پاکستانی شہری احمد کمال بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو سعودی عرب میں 35سال گزارنے کے بعد اب وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ 

سعودی عرب کو اپنا گھر کہنے والے اس پاکستانی کو چند ماہ قبل ملازمت چھوڑنے کو کہا گیا۔ سعودی حکومت غیر ملکیوں کی جگہ اپنے شہریوں کو ملازمتیں دینے کے لیے سر گرم ہے اور احمد کمال کو بھی اپنی جگہ ایک سعودی شہری کیلئے خالی کرنا پڑی ہے۔ 
احمد کمال کو سعودی عرب میں پہلی ملازمت وزارت تعلیم میں ملی اور اس دوران عرب بدؤوں کے ساتھ ان کا بہت زیادہ میل جول رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان بدؤوں سے میل جول کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کا کلچر کس قدر شاندار اور قابل رشک ہے۔ وہ بدؤوں کی عزت کرتے تھے اور کہتے ہیں کہ بدلے میں انہیں اس سے کہیں بڑھ کر عزت ملی۔
تین دہائیاں بعد احمد کمال اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہیں جسے وہ اپنا گھر قرار دے چکے تھے۔ اس موقع پر ان کے پاس جہاں بہت سی اچھی یادیں ہیں تو وہیں کچھ افسردہ کر دینے والی یادیں بھی ساتھ لے کر پاکستان آ رہے ہیں۔ مملکت میں ہی ان کے ہاں دو بچوں کی پیدائش ہوئی جبکہ وہیں قیام کے دوران اْن کی والدہ ، بھائی اور اہلیہ دنیا سے رخصت ہوئیں۔ شاید وہ بھی اپنی زندگی کے دن سعودی مملکت میں ہی پورے کرتے مگر اب حالات بدل گئے ہیں اور ان کے پاس پاکستان واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

Like Our Facebook Page

Latest News