December 2, 2017- ڈیلی بائیٹس

زمین میں دبائے گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے 300 سال پرانے مجسمے سے ایک کاغذ برآمد، اس پر کیا لکھا تھا؟ پڑھتے ہی ماہرین کے ہوش اُڑگئے کیونکہ۔۔۔

...

میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) قدیم دور کا کوئی مجسمہ دریافت ہونا انوکھی بات نہیں ہے البتہ کسی قدیم مجسمے کے اندر چھپی تحریر کا دریافت ہونا ضرور ایسی بات ہے کہ آثار قدیمہ کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ حیرت انگیز دریافت سپین میں کی گئی ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک قدیم مجسمے کے اندر سے ہاتھ سے لکھی ایسی تحریری برآمد ہو گئی ہے جو کم از کم تین صدیاں پرانی ہے۔ مجسمے سے برآمد ہونے والے کاغذ پر سال 1777ءکی تاریخ درج ہے اور اسے لکھنے والے کا نام جاﺅ کن منگیز تحریر کیا گیا ہے، جو کہ اس دور میں کتھیڈرل آف برگوڈی اوسما کے پادری تھے۔رپورٹ کے مطابق مجسمے سے برآمد ہونے والی تحریر میں اس دور کے ہسپانیہ کی سیاست، معیشت اور ثقافت کو انتہائی خوبصورتی سے چندسطروں میں سمو دیا گیا ہے۔ اس میں قدیم ہسپانیہ کی معیشت کے حالات، سیاسی و مذہبی معاملات، مشہور لوگوں اور دیگر اہم موضوعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ دو صفحات پر مبنی تحریر میں اس دور کی بچوں کی پسندیدہ کھیلوں اور ملک کے مشہور بل فائٹرز کا بھی ذکر ملتاہے۔ 
تحقیق کار ڈاونچی رستارون کا کہنا تھا کہ یہ تحریر ایک ٹائم کیپسول کی طرح ہے جس میں تین صدیاں قبل کے یورپ کے حالات کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حیران کن تحریر سانتا اگوڈا کے چرچ میں دریافت ہوئی ہے۔ اسے لکڑی کے مجسمے کے پچھلے حصے کو کھوکھلا کر کے اس کے اندر چھپایا گیا تھا۔

 

Like Our Facebook Page

Latest News