May 23, 2018,.ڈیلی بائیٹس

بھارتی سابق سفارتکار مادھوری گپتا کو پاکستانی افسر کا محبت کے جال میں پھنسا کر معلومات لینے کا انکشاف

بھارتی عدالت نے سابق سفارتکار مادھوری گپتا کو اہم قومی معلومات پاکستان کے خفیہ ادارے کو فراہم کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنادی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی سابق سفارتکار مادھوری گپتا کو بھارت کی جانب سے کیے گئے ہنی ٹریپ کے بدلے میں پھنسایا گیا، پاکستانی افسر نے مادھوری کو محبت کے جال میں پھنسا کر بھارت کی معلومات حاصل کیں۔ بھارت کے ماہرین سکیورٹی کا کہنا ہےکہ غیرممالک کے ملازمین کو انتہائی اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنے جال میں پھسنانا ایک عام بات ہے، لیکن ایک ڈبل ایجنٹ کو پکڑنا قابل ستائش کام ہے، بھارتی عدالت نے ایسے ہی ایک سابقہ سفارتکار مادھوری گپتا کو پاکستان کو معلومات فراہم کرنے پر تین سال کی سزا سنائی گئی۔ دہلی کی عدالت نے پاکستان میں تعینات سابق بھارتی سفارت کار مادھوری گپتا کو اہم معلومات پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے دو اہلکاروں کو فراہم کرنے کے الزام میں آئین کے سیکشن 3 کی دفعہ 1 سی اور سیکشن 5 کے تحت تین سال قید کی سزا سنائی۔

مادھوری گپتا کو پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمیشن میں سیکنڈ سیکرٹری برائے پریس اینڈ انفارمیشن تعینات کیا گیا تھا۔ مادھوری کو 2010ء میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اور مادھوری نے اپنے اوپر عائد الزامات کو تسلیم بھی کیا، سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مادھوی گپتا کے مبینہ طور پر پاکستانی شخص کے ساتھ تعلقات تھے ، اور اسی تعلق میں مادھوری نے بھارت کی انتہائی خفیہ معلومات پاکستان کو دینا شروع کردیں، کابینہ سیکرٹریٹ کے سابق اسپیشل سیکرٹری وی بلاچندرن نے کہا کہ مبینہ طور پر یہ ایک ریورس ہنی ٹریپ تھا، یہ ایک پُرانی حکمت عملی ہے ، جس میں مادھوری پکڑی گئی۔ بلا چندرن نے بتایا کہ جرمنی کی تقسیم کے وقت ستاسی مشرقی جرمنی کی ایک آفیشل سکیورٹی سروس تھی، ستاسی کے لیے یہ معمول کی حکمت عملی تھی جس کے تحت مشرقی جرمنی کے خوش شکل افسران سفارتخانوں میں تعینات مغربی جرمنی کی خواتین سے ملاقات کے لیے خود کو بھی مغربی جرمنی کے افسر ہی ظاہر کرتے تھے، اور اس طرح مغربی جرمنی کی انتہائی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری کاؤنٹر انٹیلی جنس نے فوری طور پر اس سرگرمی کی نشاندہی کی اور پکڑ لیا۔ اپنے ہی لوگوں پر نظر رکھنا مشکل ہے، بالخصوص اسلام آباد جیسے شہروں میں جو ہمارے مخالف ملک میں موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود مادھوری کا پکڑا جانا اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری انٹیلی جنس کافی چوکنا ہے۔ جاسوسی تو ہر ملک میں کی جاتی ہے لیکن جاسوسی کا پکڑا جانا غیر معمولی بات ہے۔ کبھی ایسی سرگرمیاں سامنے آجاتی ہیں اور کبھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناجائز تعلقات ، پیسہ اور اکیلا پن لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے ممالک کے رازوں کو دوسرے ملکوں پر فاش کر دیں یا پھر دشمن ممالک کو اپنے ملک کی خفیہ معلومات فراہم کریں۔ اسی لیے احتیاط کے طور پر ہم کنوارے لوگوں کو ایسے ممالک میں موجود سفارتخانوں میں تعینات نہیں کرتے۔ کیونکہ اکیلا پن ان کو ایک آسان شکار بنا دیتا ہے۔ جاسوسی سے ہونے والے نقصان کا اندازہ دوسرے ملک کو فراہم کی جانے والی معلومات پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں بھارتی ائیر فورس کے کاﺅنٹر انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے ہیڈ کوارٹر میں موجود ایک سینئیر افسر کو گرفتار کیا گیاتھا ۔ بھارتی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سینئیر افسر کو معلومات مبینہ طور پر ایک لڑکی کو فراہم کرنے پر گرفتار کیا گیا ۔ بھارتی حکام نے شک ظاہر کیا کہ یہ لڑکی پاکستان میں موجود ایک جاسوسی گروپ کے لیے کام کر رہی ہے۔گرفتار کیا گیا آفیسر گروپ کیپٹن تھا ،جس کا رینک آرمی میں ایک کرنل کے برابر ہوتا ہے۔مذکورہ افسر کو ائیر فورس ہیڈ کوارٹر میں کچھ مخصوص دستاویزات کی تصاویر لیتے اور پھر ان تصاویر کو میسیجنگ سروس وٹس ایپ کے ذریعے مبینہ طور پر لڑکی کو بھیجتے ہوئے پکڑا گیا۔ البتہ لڑکی سے متعلق تاحال کوئی معلوما ت حاصل نہیں ہو سکی تھیں، تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے افسر کو خاتون سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر ملی، جس کے بعد بھارتی افسر کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کیا گیا،،بھارتی افسر کے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں ہونے کا شک بھی ظاہر کیا گیا۔ بھارتی ائیر فورس کی سکیورٹی اور انوسٹی گیشن ٹیم نے معمول کے مطابق کاﺅنٹر انٹیلی جنس سرویلنس کیا جس میں انکشاف ہوا کہ ایک گروپ کیپٹن غیر مجاز ڈیوائس کے ذریعے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ائیر فورس کے موجودہ قوانین کے خلاف ہے۔ ائیر فورس میں اس حوالے سے واضح احکامات ہیں کہ مخصوص دستاویزات اور معلومات کا تبادلہ انٹرنیٹ پر فیس بُک ، اورکٹ اور ٹویٹر کے ذریعے نہیں بھیجا جائے گا۔ لیکن ماضی میں بھی ایسے کئی کیسز دیکھنے میں آئے تھے۔ کئی آرمی افسران کو بھی ہنی ٹریپ ہوتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔

Like Our Facebook Page

Latest News