July 18, 2018 Pakistan News

اڈیالہ جیل میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے ساتھ ایسا کام ہو گیا کہ آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

 اڈیا لہ جیل انتظامیہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو ملنے سے روک دیا ،جس کے بعد وہ ان سے ملے بغیر ہی واپس لوٹ گئے، خواجہ حارث نے جج محمد بشیر سے کہا کہ انہیں اپنے موکل سے نہیں ملنے دیا جا رہا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

نجی ٹی وی چینل ”ایکسپریس نیوز“ کے مطابق نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ٹرائل منتقلی کی درخواست کے فیصلے تک احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے موکل سے ملنے نہیں دیاجارہا، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جج محمد بشیر سے کہا کہ آپ ان ریفرنسز پر سماعت نہ کریں، جج محمد بشیر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس بارے میں خط لکھ دیا ہے تاہم کیس کی منتقلی میرا اختیار نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ آپ اپنے ضمیر کے مطابق دیکھیں، کیا آپ کو یہ کیس سننے چاہئیں، انصاف نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے،جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ نے ٹرائل منتقلی کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی اس کا کیا بنا؟، خواجہ حارث نے کہا گزشتہ روز پراسیکیوٹرز میں سے کوئی بھی ہائیکورٹ میں نہیں تھا، جب تک ٹرائل منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوتا ہم کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے، آپ نے جو حکم کرنا ہے کردیں،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں بھی معاملہ اٹھایا تو سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم پر جانے کا کہا، اس وقت تک ریفرنسز کی کارروائی آگے بڑھانے پر کوئی حکم امتناع نہیں ہے، مناسب ہوگا جن جج صاحب نے پورا کیس سنا وہی آگے بڑھائیں،جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ جیل ٹرائل پر آپ کیا کہیں گے، یہ اتنا آسان نہیں کہ یہاں سے اٹھیں اور جیل میں ٹرائل شروع کر دیں، وکلائے صفائی، گواہوں اور جج کیلئے جیل میں جانے کا کیا طریقہ ہوگا،خواجہ حارث نے کہا کہ جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کا مقصد ہمیں معلوم ہے کہ الیکشن سے پہلے کوئی نوازشریف کو دیکھ یا سن نہ سکے، دو دن سے کوشش کررہا ہوں، نوازشریف تک رسائی نہیں دی جارہی.

Like Our Facebook Page

Latest News